نئی دہلی، 23؍اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)کانگریس کے سینئر لیڈراورسابق وزیرخزانہ پی چدمبرم نے آج کہاکہ جموں وکشمیر کی اپوزیشن جماعتوں کے ایک وفداوروزیراعظم کے درمیان ہوئی میٹنگ اگرنئی سوچ کا پہلا اشارہ ہے تواس کا خیر مقدم کیاجاناچاہیے ۔چدمبرم نے ایک کل جماعتی وفد وادی میں بھیجنے کی بھی وکالت کی ہے ۔کانگریس کے سینئر لیڈرچدمبرم نے ایک ٹوئٹ میں کہاکہ کل وزیراعظم اورجموں وکشمیر کی اپوزیشن جماعتوں کے درمیان ہوئی میٹنگ ،اگر یہ نئے سرے سے سوچنے کا پہلا اشارہ ہے تو ہمیں اس کاخیرمقدم کرناچاہیے۔انہوں نے لکھاکہ اگلا قدم ایک کل جماعتی وفد کو جموں و کشمیر بھیجنے کا ہونا چاہیے ۔کشمیر وادی کی کشیدہ صورتحال کا ایک مستقل حل تلاش کرنے کے لیے وزیراعظم نے مذاکرات کی اپیل کی تھی ۔کانگریس نے کل ہی ان کی اس اپیل کوجلد بازی میں اٹھایاگیاقدم بتا کرمستردکردیاتھا۔کشمیر وادی میں گزشتہ45دنوں سے صورتحال کافی کشیدہ ہے۔کانگریس کے ترجمان منیش تیواری نے کہا تھاکہ ایسا لگتا ہے کہ وزیر اعظم کے سر بدلتے رہتے ہیں۔انہوں نے کل جماعتی میٹنگ میں کیا کہا، یوم آزادی کے خطاب میں کیا کہاور آج وہ مذاکرات کی بات کر رہے ہیں، لیکن مذاکرات کس کے ساتھ ہو؟ ایسا شبہ ہے کہ یہ صرف الفاظ ہیں ۔وزیر اعظم کے لیے محض جملہ بازی ۔بدقسمتی سے وہ بغیر سوچے سمجھے قدم اٹھا رہے ہیں اور ہوا میں تیر چلا رہے ہیں۔مودی نے جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ کی قیادت میں آئی اپوزیشن جماعتوں کے ایک مشترکہ وفد کے ساتھ 75منٹ تک ملاقات کی تھی۔وزیر اعظم نے آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے ایک مستقل اوربامعنی حل ڈھونڈنے کے لیے مذاکرات پر زور دیاتھا ۔انہوں نے تمام سیاسی پارٹیوں سے یہ بھی کہا کہ وہ جموں و کشمیر میں مسائل کا حل تلاش کرنے کے لیے مل جل کر کام کریں۔